ظن بلیغ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - وہ تقریر جو سامعین کے دل و دماغ تک پہنچ جائے، خطبہ بلیغ، وہ گمان جو یقین کے قریب پہنچ جائے۔ "میں نیاز صاحب سے درخواست کروں گا کہ وہ آئیں اور 'طور' صاحب کے اس ظن بلیغ کو دور کرنے میں میری مدد کریں۔"      ( ١٩٣٤ء، ارمغان مجنوں، ٣٥٢:٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'ظن' کے ساتھ کسرہ صفت لگا کر عربی اسم 'بلیغ' لگانے سے مرکب توصیفی بنا۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٣٤ء کو "ارمغان مجنوں" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ تقریر جو سامعین کے دل و دماغ تک پہنچ جائے، خطبہ بلیغ، وہ گمان جو یقین کے قریب پہنچ جائے۔ "میں نیاز صاحب سے درخواست کروں گا کہ وہ آئیں اور 'طور' صاحب کے اس ظن بلیغ کو دور کرنے میں میری مدد کریں۔"      ( ١٩٣٤ء، ارمغان مجنوں، ٣٥٢:٢ )

جنس: مذکر